آثار[2]
معنی
١ - بنیاد، نیو، دیوار کا پایہ۔ "جس دیوار کا گز بھر آثار ہو اس کی مضبوطی کی کیا بات ہے"۔ ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ٦٢:١ ) ٢ - دیوار کی چوڑائی، چکلان یا موٹائی۔ "کچی اور بوسیدہ دیواریں چھوٹے چھوٹے آثار ٹوٹی پھوٹی منڈیریں . پتہ دے رہی ہیں۔" ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ٦ )
اشتقاق
یہ اصلاً فارسی کا لفظ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٦٩ء میں "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بنیاد، نیو، دیوار کا پایہ۔ "جس دیوار کا گز بھر آثار ہو اس کی مضبوطی کی کیا بات ہے"۔ ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ٦٢:١ ) ٢ - دیوار کی چوڑائی، چکلان یا موٹائی۔ "کچی اور بوسیدہ دیواریں چھوٹے چھوٹے آثار ٹوٹی پھوٹی منڈیریں . پتہ دے رہی ہیں۔" ( ١٩١٨ء، انگوٹھی کا راز، ٦ )